ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل میں پسماندہ ذات و طبقات کی میٹنگ میں زبردست ہنگامہ: پولس کو کرنی پڑی مداخلت؛ سپریم کورٹ کے فیصلے کاانتظارکرنے ویدامورتی کی ہدایت

بھٹکل میں پسماندہ ذات و طبقات کی میٹنگ میں زبردست ہنگامہ: پولس کو کرنی پڑی مداخلت؛ سپریم کورٹ کے فیصلے کاانتظارکرنے ویدامورتی کی ہدایت

Thu, 26 Oct 2017 19:32:10    S.O. News Service

بھٹکل:26/ اکتوبر (ایس اؤنیوز)گذشتہ چند برسوں سے پسماندہ ذات، پسماندہ طبقات کی سند کو لے کر اترکنڑا ضلع میں تنازعات پیدا ہونے سے معاملہ سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے اور آخری مرحلے کو پہنچا ہے۔ بدھ کو یہاں تعلقہ پنچایت ہال میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ منگلورو کے کمشنر ڈاکٹر ویدامورتی کی نگرانی میں منعقدہ پسماندہ ذات و طبقات کے منصوبہ جات کے نفاذ اور کمی بیشی  کو حل کرنے کی میٹنگ میں اسی بات کو لےکر دو گرہوں کے درمیان زبردست ہنگامہ ہوگیا۔

میٹنگ کے دوران دلت لیڈر نارائن شرور نے پسماندہ ذات و طبقات کا مسئلہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری منصوبہ جات کا فائدہ  اصل پسماندہ طبقات کو نہیں پہنچ رہا ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ جعلی ذات کی سرٹیفکٹ والوں کو مستفیدین بتاکر منصوبہ جات کو نافذ کیا جارہا ہے۔ میٹنگ میں موجود موگیر سماج کے صدر کے ایم کرکی، بھاسکر بئیدمنے ، ناگراج ای ایچ ، شری دھر موگیر، بھاسکر موگیر وغیرہ نے فوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ذات سرٹیفکٹ کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے، وہاں مسئلہ حل ہونے سے پہلے ہی اس طرح میٹنگ میں با ت کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے ۔  انہوں نے نارائن شیرور پر الزام لگایا کہ وہ ہر میٹنگ میں  اسی طرح کا مسئلہ  پیش کرکے  وقت برباد کرتے ہیں، لہٰذا انہیں میٹنگ سے باہر بھیجا جائے۔ ان کی حمایت میں مزید کچھ  لوگ ڈائس کے سامنے پہنچ کر نارائن شیرور کے خلاف سخت برہمی ظاہر کی۔جس کے نتیجے میں پوری میٹنگ ہنگامہ خیزی کی نظر ہوگئی ۔

حالات حد سے زیادہ بگڑتے دیکھ کر پولس نے مداخلت کرتےہوئے مشتعل افرادکو مطمئن کرنے کی کوشش کی اور نارائن شیرور کو باہر لے جاکر حالات کو معمول کرنےکی سعی بھی کی گئی مگراس کے کچھ ہی دیر بعد میٹنگ میں پہنچے کرن شرور ، رویندر منگلا وغیرہ نے نارائن شرور کی حمایت کرتے ہوئے انہیں واپس میٹنگ ہال میں لے آئے اور کہا کہ یہ سرکاری میٹنگ ہے اور سرکاری میٹنگ سے کسی کو باہر بھیجنا ممکن نہیں ہے۔

اس موقع پر سی آر ای سیل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ویدا مورتی نے کہا کہ  موگیروں کو ذات کی سرٹی فیکٹ  دینے والا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے ،  اس لئے جب تک عدالت  کا فیصلہ نہیں آتا،  اُس پر کوئی بات نہیں کی جاسکتی۔ میٹنگ میں کرن شرور نے بات کرتے ہوئے کہاکہ جس علاقہ میں پسماندہ ذات کے لوگ رہتے ہیں وہاں رکن اسمبلی کسی بھی طرح کا کوئی کام نہیں کررہے ہیں،  انہوں نےالزام لگایا کہ مندر کی ترقی کا کام بھی غفلت کا شکار ہے۔ رویندر منگلا نے پسماندہ ذات والوں کو زمین نہ ہونے کا مسئلہ پیش کیا تو موگیر سماج کے صدر کے ایم کرکی نے اس کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ گاؤں کی صفائی کےلئے دن رات کام کرنے والے طبقہ کو انسانیت کے ناطے انصاف دلایا جائے۔ میٹنگ میں باکڑ اور منڈلی کے ہلیر سماج کو گھر تعمیر کرنے کے لئے زمین نہ ہونے کی شکایت کی ۔ گونڈ ا طبقہ کی طرف سے بات کرتے ہوئے وکیل منجوناتھ گونڈا نے مطالبہ کیا کہ کوگتی تالاب کی ترقی اور جڑی بوٹیاں دینے والے طبقہ گونڈا کو بھی سرکاری سہولیات فراہم کی جائے۔

میٹنگ کے دوران  نارائن شیرور نے الزام لگایا کہ پسماندہ ذات والے جب پولس تھانہ پہنچ کر کچھ  شکایت درج کرنے کی کوشش  کرتے ہیں تو پولس تھانہ میں ان کی کوئی نہیں سنتاہے۔ اس بات پر بھٹکل ڈی وائی ایس پی شیو کمار نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور سوال  پوچھا کہ اُن کا ایسا  کونسامعاملہ ہے جس پر پولس نے کارروائی نہیں کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپ نے کتنی  بار ہم سے آکر ملاقات کی ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ میٹنگ میں بے کار اور بےبنیاد باتوں کو پھیلا کر غلط جانکاری نہ دی جائے۔

ڈائس پر تحصیلدار وی این باڈکر، تعلقہ پنچایت آفیسر سی ٹی نائک ، محکمہ سماجی فلاح وبہبودی کےافسر ونایک بھی موجود تھے۔

26oct3.JPG


Share: